بان[8]

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - بناوٹ، ڈھنگ، شکل، مزاج، خاصیت (اکثر آن کے ساتھ بطور تابع مستعمل) "شہزادے اسی بان سے اس کے مکان میں گئے"۔      ( ١٨٠٣ء، مذہب عشق، نہال چند، ٩ ) ٢ - عادت، خصلت، خو، سبھاؤ "جیسی بان ڈالو گے ویسی پڑے گی"      ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٥٥٨:١ ) ٤ - ہندوؤں کی ایک رسم جس کے بموجب دولھا و دلھن شادی سے پہلے تین سے گیارہ دفعہ تک نہلائے جاتے ہیں اور چند روز مکان کے کسی کمرے میں بٹھا دیے جاتے ہیں اور ان کے ابٹنا وغیرہ ملا جاتا ہے۔ مانجا مائیاں، مائیوں بٹھانے کی رسم۔ "پہلے ہی بان کی رسم پوری کر چکے تھے"      ( ١٩٢٠ء، ماہنامہ 'انتخاب لاجواب: ٢٦ دسمبر، ٥ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'ورن' ہے جس نے اردو میں داخل ہونے کے بعد یہ صورت اپنائی، ١٨٠١ء میں "مذہب عشق" میں استعمال ہوا۔

مثالیں

١ - بناوٹ، ڈھنگ، شکل، مزاج، خاصیت (اکثر آن کے ساتھ بطور تابع مستعمل) "شہزادے اسی بان سے اس کے مکان میں گئے"۔      ( ١٨٠٣ء، مذہب عشق، نہال چند، ٩ ) ٢ - عادت، خصلت، خو، سبھاؤ "جیسی بان ڈالو گے ویسی پڑے گی"      ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٥٥٨:١ ) ٤ - ہندوؤں کی ایک رسم جس کے بموجب دولھا و دلھن شادی سے پہلے تین سے گیارہ دفعہ تک نہلائے جاتے ہیں اور چند روز مکان کے کسی کمرے میں بٹھا دیے جاتے ہیں اور ان کے ابٹنا وغیرہ ملا جاتا ہے۔ مانجا مائیاں، مائیوں بٹھانے کی رسم۔ "پہلے ہی بان کی رسم پوری کر چکے تھے"      ( ١٩٢٠ء، ماہنامہ 'انتخاب لاجواب: ٢٦ دسمبر، ٥ )

جنس: مؤنث